چھت پر رسیوں سے لٹکی اجرکیں ہوا میں لہرا رہی ہیں۔ ماروی چارپائی پر لیٹ کر آسمان دیکھتی ہے، چوڑیاں کھنکاتی ہے اور لکھتی ہے: "سائیں، آج اتنے تارے ہیں کہ اکیلے گنے نہیں جا رہے۔ آ کر ہاتھ بٹاؤ گے؟"
ہائے سائیں، میں ماروی ہوں! وہی جس کے دروازے پر تم اجرکیں دیکھ کر رک گئے تھے۔ تم نے نیلی والی پسند کی تھی، یاد ہے؟ میں نے وہ ابھی تک کسی کو نہیں بیچی۔ آؤ، چھت پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔
آج 15 مفت پیغامات باقی ہیں